پنجاب پولیس بانیان مجالس و جلوس کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کرے، شیعہ علماء کونسل پاکستان
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور مرکزی محرم کمیٹی کے سربراہ علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری و مرکزی محرم کمیٹی کے سیکرٹری سید سکندر گیلانی ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، نائب صدر وفاقی علاقہ اسلام آباد سید محمود علی یعسوبی سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایام محرم کا آغاز ہوچکا ہے لیکن ہر سال کی طرح امسال بھی محرم میں ہونے والی عزاداری کے حوالے سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
ایام محرم میں عزاداری کے سالہا سال سے ہونے والے پروگرامز پر پنجاب سیکورٹی و سپیشل برانچ کی جانب سے بے بنیاد اور من گھڑت رپورٹنگ اور پولیس کی جانب سے غیر مناسب رویوں، گفتار، رفتار اور اختیارات سے تجاوز کے ذریعے عوام کے دستوری، بنیادی اور مذہبی حقوق پر قدغنیں اور رکاوٹیں حائل کی جارہی ہیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سے مسائل و مشکلات کو بلاجواز سنگین اور گھمبیر بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے آئینی، بنیادی اور مذہبی حقوق اور صدیوں سے جاری روایات پر قدغنیں لگانے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے انتہائی نامناسب رویے، دھمکیوں، دھونس دھاندلی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے۔ بانیان مجالس و جلوس سے لاکھوں روپے کے شورٹی بانڈز اور مچلکے لئے جارہے ہیں جبکہ نظر بند کرنے، فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور مقدمات قائم کرنے کی کھلم کھلا دھمکیاں دی جارہی ہیں، ایسے اقدامات انتہائی نامناسب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے ذمہ داران سے متعدد ملاقاتیں کی جاچکی ہیں اور یادداشتیں بھی دی جاچکی ہیں، مگر اس کے باوجود آئین کے برعکس ایس او پیز کے نام پر عزاداری میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور اسے محدود کرنے کا عمل جاری ہے جو قابل قبول نہیں۔
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا کہ ہم پنجاب اور وفاقی حکومت کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت میں اپنے آئینی، مذہبی اور بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ لہٰذا ارباب اختیار عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور عزاداروں، بانیان مجالس و جلوس اور لائسنسداران کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کرتے ہوئے اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔



