تازه خبریں

علامہ سید ساجد علی نقوی راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

ہم پر پابندی بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت لگائی گئی علامہ ساجد علی نقوی

ہم پر پابندی بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت لگائی گئی: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی

راولپنڈی / اسلام آباد، 20 فروری 2026:
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ہم پر پابندی بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت لگائی گئی، جس کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمارا کبھی بھی دہشتگردی، فرقہ پرستی یا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ ہم خود عرصہ دراز سے دہشتگردی کا شکار رہے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے ناموں کی فہرستیں شائع کی جا رہی ہیں اور بدقسمتی سے بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت ہمارا نام بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں انتہا پسندی، تکفیر اور شدت پسندی کے نتیجے میں مختلف طبقات سے سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے۔ ایسے حالات کے باوجود ہم نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین، وحدت اُمت، امن و امان اور قانون کی بالادستی کا راستہ اپنایا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے قیام اور مؤثر انداز میں چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اعلامیہ ہائے وحدت اور ضابطہ ہائے اخلاق پر نہ صرف دستخط کیے بلکہ ان پر عمل بھی کیا، جس سے مسالک کے درمیان ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ ملا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین کی مسلسل کوششوں اور تمام مکاتب فکر کے قائدین سے روابط کے باوجود ہمیں انتہاپسندوں اور تکفیری عناصر کے ساتھ جوڑنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ بنیادی شہری و دستوری حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ کالعدم فہرست میں شمولیت کے باعث ایک بڑے طبقے کی توہین و تضحیک کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ ترلائی اسلام آباد میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کی شفاف تحقیقات کر کے تمام کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آخر میں انہوں نے ارباب اقتدار سے مطالبہ کیا کہ بیلنس کی غیر منصفانہ پالیسی کے تحت کیے گئے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کا فوری ازالہ کیا جائے تاکہ آئین و قانون کی بالادستی، عدل و انصاف کا تاثر اور عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔