اسلام آباد (نامہ نگار) — آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے مرحوم سید ثاقب اکبر نقوی کی تیسری برسی کے موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی زندگی علمی، فکری اور حقوقی جدوجہد سے عبارت تھی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے مولانا سید علی عباس اور ادارہ البصیرہ کے منتظمین کو اس باوقار تقریب کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی و فکری کاوشیں معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور عوام کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مرحوم سید ثاقب اکبر کی علمی و فکری خدمات
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ وہ مرحوم سید ثاقب اکبر کو طویل عرصے سے جانتے تھے اور ان کے ساتھ نہایت بے تکلف اور قریبی تعلقات تھے۔ انہوں نے ہمیشہ حقوق کے حصول، علمی میدان اور فکری محاذ پر نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے مختلف موضوعات پر جو علمی آثار چھوڑے ہیں وہ نہایت قابل قدر اور قابل استفادہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے کام کو آگے بڑھایا جائے اور نئی نسل تک منتقل کیا جائے تاکہ فکری تسلسل قائم رہے۔
الحاد کے چیلنج اور عقائد کا دفاع
آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے موجودہ دور کے فکری چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں میں بعض طبقات کی جانب سے الحاد کے نظریات کو فروغ دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جن کا علمی اور استدلالی انداز میں جواب دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یکتاپرستی، وجودِ خدا اور بنیادی ماورائے طبیعی عقائد کے دفاع کے لیے مضبوط فکری تیاری کرنی ہوگی۔ مناظرانہ اور علمی سطح پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو فکری اطمینان فراہم کیا جا سکے۔
اسلامی تہذیب اور اخلاقی اقدار کا فروغ
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہمارے معاشرے کا ایک بنیادی مسئلہ اسلامی تہذیب اور اخلاقی اقدار کی کمزوری ہے۔ اگر ہم اسلامی اخلاقیات کو فروغ دیں تو بہت سے سماجی مسائل کا حل ممکن ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ باہمی تعلقات اور سماجی روابط میں اخلاقیات بنیادی کردار ادا کرتی ہیں اور اسلامی تہذیب کی اصل روح بھی حسنِ اخلاق میں پوشیدہ ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ضرورت
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اگر اس قرآنی اصول پر عمل کیا جائے اور “وَلا تَفَرَّقُوا” کی تعلیمات کو اپنایا جائے تو معاشرے میں حقیقی اصلاح اور اتحاد پیدا کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فکری اور دینی اداروں کو مزید مضبوط بنانے اور ان کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل ان سے استفادہ کرے اور اپنے کردار و فکر کو سنوار سکے۔