راولپنڈی / اسلام آباد، 13 فروری 2026ء — شیعہ علماء کونسل پاکستان کی اپیل پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں سانحہ جامع مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور دیگر پروگرام منعقد کیے گئے۔
ان احتجاجی پروگراموں میں علماء کرام، شیعہ علماء کونسل اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (جے ایس او) کے مرکزی، صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح کے عہدیداران و کارکنان کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مذمتی قراردادیں منظور کیں۔
حکومت سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
شیعہ علماء کونسل پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، دہشتگردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے اور تمام مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ ترلائی کو دشمنانِ اتحاد کی کارستانی قرار دیا اور کہا کہ یہ عناصر پاکستان میں اتحاد امت کو پارہ پارہ کر کے ملک کو دوبارہ فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوام نے ملک گیر احتجاج کے ذریعے ملی بیداری کا ثبوت دیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان کے عوام متحد ہیں۔
دارالحکومت میں سیکیورٹی پر سوالات
علمائے کرام نے جامع مسجد خدیجتہ الکبریٰ میں جانی نقصان کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر دارالحکومت اسلام آباد میں بھی نمازی محفوظ نہیں تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے اصل محرکات کو سامنے لایا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
مقررین نے شہداء کے درجات کی بلندی، سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔