تازه خبریں

ایران کے فکری، مذہبی اور سیاسی تنوع پر سید جواد حسین رضوی کا تجزیہ، تہران اور ایرانی معاشرے کی علامتی تصویر

ایران کی فکری و سیاسی حقیقت | سید جواد حسین رضوی

ایران کا فکری، مذہبی اور سیاسی تنوّع — عینی مشاہدات

تحریر: سید جواد حسین رضوی
21 رجب المرجب 1447ھ | بوقتِ عشاء

ایران کا فکری، مذہبی اور سیاسی تنوع

خاکسار کی عمر کا ایک حصّہ تہران میں گزرا ہے۔ وہاں موجود پاکستانی ایمبیسی اسکول سے انٹر کیا اور بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پاکستانی کمیونٹی آٹے میں نمک کے برابر ہے؛ چند پاکستانی ڈپلومیٹ، ایمبیسی و اسکول کے ملازمین اور چند بزنس کے سلسلے میں مقیم تھے جن کو آپ انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا اٹھنا بیٹھنا ایرانیوں کے ساتھ ہی رہا۔

تہران یونیورسٹی کا زمانہ تو ایرانی طلّاب کے ساتھ رہا جنہیں دانشجو کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں ہم ہر طرح کے ایرانیوں سے واقف ہوئے، یوں کہہ لیجیے کہ ایرانی سماج، ثقافت اور فکری تنوّع سے براہِ راست آشنائی ہوئی۔ مجھے ذاتی طور پر ایرانی اپنے سے لگتے ہیں، اور ایرانی بھی میری وضع قطع اور تہرانی لب و لہجے کی بنا پر مجھے اکثر ایرانی ہی سمجھتے تھے۔ تہران میں گزارا ہوا یہ زمانہ میری فکری آبیاری میں نہایت اہم ثابت ہوا، اور اسی دوران کئی ایرانی مفکّرین سے شناسائی ہوئی۔ اگر میں قم میں رہتا یا صرف پاکستانیوں کے درمیان محدود رہتا تو شاید یہ سب کچھ حاصل نہ ہو پاتا۔

ایران کے حوالے سے کافی لوگ لکھ رہے ہیں، مجھے محسوس ہوا کہ اکثر لوگ ایرانی سیاسی و فکری ڈائنامکس سے واقف نہیں ہیں، اس لیے سطحی یا غلط تجزیہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی لیے یہ تحریر لکھنا لازمی سمجھا تاکہ ایران کی فکری تنوّع (diversity) سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ایران کی اکثریت شیعہ اثنا عشری ہے جبکہ اہلِ سنت کی بھی ایک معقول تعداد ملک کے کچھ حصّوں میں آباد ہے۔ لیکن ایک بنیادی غلطی اکثر کی جاتی ہے کہ ایرانی شیعوں کو پاکستانی یا ہندوستانی شیعوں کی مانند سمجھ لیا جاتا ہے۔ برصغیر میں شیعہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اہلِ بیتؑ سے محبت اور عزاداری کے ذریعے اس کا ایک رشتہ بہرحال باقی قوم سے جڑا رہتا ہے۔ یہ بات ایرانی شیعوں پر اسی طرح منطبق نہیں ہوتی۔

ایران میں یا تو لوگ مذہبی ہیں یا غیر مذہبی؛ درمیان کی کوئی چیز بہت کم پائی جاتی ہے۔ جیسے پاکستان میں ہر شخص کسی نہ کسی طرح دین سے جڑا ہے اور دینی شعائر کا احترام کرتا ہے، ایران میں یہ وصف تقریباً صرف مذہبی طبقے تک محدود ہے؛ جو مذہبی نہیں، وہ عموماً مذہب بیزار ہوتا ہے۔ ایرانیوں کے اس ایکسٹریم رویّے کا اظہار میں نے متعدد ایرانی مفکّرین سے کیا تو انہوں نے اس بات کی تائید کی۔ اس کی ایک واضح دلیل بیرونِ ایران مقیم ایرانیوں کی اکثریت ہے، جو بڑی حد تک مذہب بیزار نظر آتی ہے؛ محض ایک اقلیتی طبقہ ہی کسی درجے میں مذہب سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔

لہٰذا یہ سمجھنا کہ ایران کی موجودہ اسلامی رجیم تبدیل ہو جائے تو حکومت پھر بھی کسی شیعہ کی ہی ہوگی، شدید سادہ لوحی ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی افراد کی اکثریت اسلامی حکومت کی حامی ہے۔ جو مذہب سے وابستہ نہیں تو وہ ملحد یا مذہب بیزار افراد بچتے ہیں۔ ایران پاکستان نہیں ہے؛ پاکستان کے شیعہ چاہے لبرل ہوں یا متشکّک ہوں، ان کے اندر مومن بھائی والی spark موجود ہوتی ہے، جبکہ ایران میں مومن بھائی تو چھوڑیں، مسلمان بھائی والی رمق بھی شاذ و نادر نظر آتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ملّاؤں کی حکومت ختم ہو گئی تو پاکستان اور عراق جیسی نیوٹرل مسلمانوں کی حکومت آ جائے گی، تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ یہ رجیم ختم ہو گئی تو سمجھ لیں کہ بالکل مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں آئے گا جس کے اسرائیل سے قریبی روابط ہوں گے۔ شاہِ ایران کے دور سے بھی بدتر حالات ہوں گے۔ مسلمان صرف برائے نام ہی رہ جائیں گے۔ اسلامی شعائر کی توہین عام ہوگی جس کی مثالیں بعض مظاہروں میں مساجد اور مزارات کو نذرِ آتش کرنے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایران کی سماجی و فکری تقسیم

مجموعی طور پر اگر ایران کی ڈیموگرافی کو سمجھا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:

1) مذہبی افراد جو اسلامی رجیم کے ساتھ ہیں۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے اگر پورے ایران کو مدِنظر رکھا جائے۔
2) مذہبی افراد جو اسلامی رجیم کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن موجودہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای کو نہیں مانتے۔ یہ اسلامی انقلاب کے وہ حامی ہیں جنہیں رہبر سے سیاسی اختلاف ہے، ان میں مرحوم آیت اللہ منتظری کے مقلّدین شامل ہیں۔
3) مذہبی افراد جو اسلامی حکومت کو نہیں مانتے بلکہ نظریۂ ولایتِ فقیہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ افراد کل مذہبی آبادی کا بمشکل دس فیصد ہوں گے۔ ان میں بعض علماء و مراجع اور ان کے مقلّدین شامل ہیں۔ اس میں معروف اپوزیشن پارٹی مجاہدینِ خلق کے ایک حصّے کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، بالفاظ دیگر بعض سوشلسٹ اور لبرل افراد جو ذاتی طور پر مذہب کو مانتے ہیں۔
4) باقی بچتے ہیں غیر مذہبی افراد جو یا تو ملحد ہیں یا دین سے بیزار ہیں۔

واضح رہے کہ میرے پاس ان طبقات کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعداد و شمار یا مستند سروے موجود نہیں، لیکن اپنے مشاہدے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تقریباً ساٹھ فیصد ایرانی پہلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی چالیس فیصد دیگر طبقات پر مشتمل ہیں۔

قدامت پسند اور اصلاح پسند

پہلا طبقہ ہی اس وقت ایران میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس طبقے کو سیاسی لحاظ سے مزید دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف) قدامت پسند
یہ وہ افراد ہیں جن کے نزدیک موجودہ ایرانی نظام بالکل درست ہے، اس میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں، رہبر معظم کے اختیارات بالکل درست ہیں، اور ایران کی داخلہ و خارجہ پالیسی بھی درست سمت میں ہے۔

ب) اصلاح پسند
یہ طبقہ مذہب پر بھی کاربند ہے اور انقلاب اسلامی کو بھی مانتا ہے، لیکن نظام میں اصلاح چاہتا ہے۔ ان کے نزدیک طاقت کا حد سے زیادہ تمرکز کم ہونا چاہیے، صدر اور مجلس کے اختیارات میں اضافہ ہونا چاہیے اور عالمی برادری کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کیے جانے چاہییں۔ افسوس ہوا جب بعض افراد کو یہ کہتے دیکھا کہ اصلاح پسند اسلامی نظام کے خلاف ہیں، حالانکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔

ایران کی موجودہ سیاست انہی دو طبقات کے گرد گھومتی ہے۔ قدامت پسندوں کی نمائندگی محمود احمدی نژاد، مرحوم ابراہیم رئیسی اور قالیباف کرتے رہے ہیں، جبکہ اصلاح پسندوں کی نمائندگی سید محمد خاتمی، حسن روحانی اور موجودہ صدر پزشکیان کرتے ہیں۔ یہ دونوں طبقات آیت اللہ خامنہ ای کو رہبر تسلیم کرتے ہیں۔

موجودہ مظاہرے اور حقیقت

اس وقت مظاہرہ کرنے والے کون لوگ ہیں؟
یہ سوال سب سے اہم ہے۔

تقریباً تمام طبقات معاشی مشکلات پر شاکی ہیں، مگر پہلا طبقہ اسلامی نظام کی سرنگونی نہیں بلکہ معاشی ریلیف چاہتا ہے۔ اصلاح پسند طبقہ بھی نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ اصلاح چاہتا ہے۔ تیسرا طبقہ بڑی حد تک نیوٹرل ہے، جبکہ چوتھا طبقہ اور تیسرے طبقے کا ایک حصہ (سوشلسٹ و لبرل) اسلامی رجیم کی تبدیلی کا خواہاں ہے اور عملاً انتشار پھیلانے کی کوشش یہی لوگ کر رہے ہیں۔

یہ لوگ بمشکل بیس فیصد بھی نہیں، اس لیے محض عوامی احتجاج کے ذریعے اسلامی حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ بیرونی مداخلت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں

Facebook visit