مولودِ کعبہ حضرت علیؑ کی ولادت: عدلِ علوی آج بھی عالمی نظامِ حکمرانی کے لیے ماڈل ہے، آیت اللہ سید ساجد علی نقوی
راولپنڈی/اسلام آباد، 3 جنوری 2026ء:
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی ولادت باسعادت (13 رجب المرجب) کے پرمسرت و بابرکت موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خدا تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کے لیے ماہِ رجب المرجب کا یہ دن غیر معمولی مسرت اور سعادت کا حامل ہے، کیونکہ اسی دن نفسِ رسول، امیرالمومنین حضرت علیؑ خانۂ کعبہ کے اندر متولد ہوئے۔ یہ ولادت محض ایک عظیم شخصیت کی پیدائش نہیں بلکہ امامت، قیادت اور پیشوائی کی ولادت ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کی خصوصی تربیت براہِ راست پیغمبرِ گرامی اسلام ﷺ نے فرمائی۔ آپؑ ہر لمحہ رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ رہے، جس کا اثر آپؑ کی شخصیت، کردار اور طرزِ حکمرانی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ امیرالمومنینؑ کی زندگی کا سیاسی و اجتماعی پہلو خصوصاً ’’سیاستِ علوی‘‘ ایک ایسا باب ہے جس کے گہرے مطالعے کی آج بھی شدید ضرورت ہے۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ بحرانی حالات میں حضرت علیؑ نے جس دانش، عدل اور بصیرت کے ساتھ حکمرانی کی، وہ ایک منفرد اور جامع طرزِ جہاں بانی ہے جس سے آج بھی دنیا استفادہ کر رہی ہے۔ بالخصوص مالک اشتر کے نام آپؑ کا تاریخی عہدنامہ ایسا ضابطۂ حکمرانی ہے جو ریاستی نظم، عوامی حقوق اور حکمرانوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے، جس سے پاکستانی ریاست کو بھی عملی طور پر استفادہ کرنا چاہیے۔
قائد ملت جعفریہ کے مطابق امیرالمومنین حضرت علیؑ کا عدل و انصاف کا نظام انہیں دنیا کے تمام حکمرانوں سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے۔ عدلِ علوی آج بھی دنیا میں ایک عملی ماڈل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ آپؑ کے طرزِ حکمرانی اور اصولِ جہاں بانی کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بھی بطور حوالہ شامل کیا گیا ہے۔ اسی موضوع پر معروف مسیحی دانشور جارج جرداق نے ’’انسانی عدالت کی آواز‘‘ کے عنوان سے ایک تاریخی کتاب تصنیف کی۔
آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔ قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حضرت علیؑ کی حیات طیبہ مسلمانان عالم کے لئے نمونہ عمل ہے ہم سب کو چاہیے کہ ہم اس کو اپنائےں‘ صبر و تحمل اور عمل و استقامت کا دامن تھام کر آپ کی تعلیمات کی روشنی میں آپ کے دیئے ہو ئے نظام کی تشکیل کے لئے کوشاں رہیں تاکہ انسانیت کو فلاح و نجات سے ہمکنار کیا جاسکے۔ مسلمانا ن عالم بالخصوص مسلمانان پاکستان جشن ولادت امامؑ نہایت تزک و احتشام سے منائیں اور مولود کعبہ کے افکار و اقوال کی روشنی میں اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کریں ۔