تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی عالمی یوم فلسفہ پر پیغام دیتے ہوئے

فلسفہ علوم کا خزینہ، انسان کی پہچان اور معاشرتی رہنمائی — علامہ ساجد نقوی

فلسفہ: علوم کا خزینہ اور انسانی شعور

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ فلسفہ علوم کا خزینہ ہے۔ اسی طرح، یہ انسان کی پہچان کے ساتھ معاشروں کی تہذیب میں بنیادی کردار بھی ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی کی دوڑ کے باوجود، آج بھی فلسفہ اپنی آب و تاب کے ساتھ تمام مسائل کا حل اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لہذا، فلسفہ انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کا بنیادی علم ہے۔

مزید برآں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی نے عالمی یوم فلسفہ پر مختلف علمی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کے علوم کا خزینہ فلسفہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عظیم فلسفیوں کے مشاہدات کے مطابق فلسفہ کبھی سیدھی لکیر کی طرح نہیں رہا۔ بلکہ، ہر دور میں اس کے تقاضے اور زاویے بدلتے رہے۔ تاہم، کچھ نکات وہی رہے جو فلسفے کو دیگر تمام علوم سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان میں کائنات کا تجزیہ، جانداروں کی نفسیات، انسانی شعور اور بیدار مغزی کو بڑھانا شامل ہے۔

اسلامی فلسفہ اور حکمت کی اہمیت

اسی طرح، علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ دنیا کے بہت سارے متضاد مسائل کا بہترین حل اگر کسی علم نے پیش کیا تو وہ علم فلسفہ ہے۔ مزید برآں، ماضی میں فلسفہ کی اسی طرح حکمرانی رہی، جس طرح آج سائنس اپنی تمام توانائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ نتیجتاً، آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسفہ محض بحث نہیں، بلکہ حق کی جستجو اور انسان و کائنات کے مقصدِ تخلیق پر غور کی راہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی فلسفہ نے اخلاق، انصاف، معاشرت اور علم کے دروازے کھولے۔ اس کے علاوہ، اسلامی فکر نے ہمیں سکھایا کہ سوال کرنا گمراہی نہیں بلکہ ہدایت کا آغاز ہے۔ حکمت انسان کو بہتر انسان اور بہتر مسلمان بناتی ہے۔ قرآن کریم کی سورہ البقرہ کی آیت 269 میں ارشادِ خداوندی ہے:
“جسے حکمت عطا کی گئی، اسے بے پناہ خیر دیا گیا”۔
یہ آیت فلسفے اور حکمت کی اسلامی بنیادوں کو واضح کرتی ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ فلسفہ یونان سے عرب دنیا میں داخل ہوا۔ مسلمانوں میں عظیم فلسفی پیدا ہوئے، جنہوں نے فلسفے کو اسلامائز کیا۔ مزید برآں، اس سلسلے میں رہنمائی کے لیے شہید باقر الصدر کی کتاب “فلسفتنا” سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ کتاب اسلامی فکری روایت میں فلسفے کی جامع تشریح پیش کرتی ہے۔

فلسفہ: علوم کا خزینہ اور انسانی شعور

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ فلسفہ علوم کا خزینہ ہے۔ اسی طرح، یہ انسان کی پہچان کے ساتھ معاشروں کی تہذیب میں بنیادی کردار بھی ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی کی دوڑ کے باوجود، آج بھی فلسفہ اپنی آب و تاب کے ساتھ تمام مسائل کا حل اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لہذا، فلسفہ انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کا بنیادی علم ہے۔

مزید برآں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی نے عالمی یوم فلسفہ پر مختلف علمی شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کو سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کے علوم کا خزینہ فلسفہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عظیم فلسفیوں کے مشاہدات کے مطابق فلسفہ کبھی سیدھی لکیر کی طرح نہیں رہا۔ بلکہ، ہر دور میں اس کے تقاضے اور زاویے بدلتے رہے۔ تاہم، کچھ نکات وہی رہے جو فلسفے کو دیگر تمام علوم سے ممتاز کرتے ہیں۔ ان میں کائنات کا تجزیہ، جانداروں کی نفسیات، انسانی شعور اور بیدار مغزی کو بڑھانا شامل ہے۔

اسلامی فلسفہ اور حکمت کی اہمیت

اسی طرح، علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ دنیا کے بہت سارے متضاد مسائل کا بہترین حل اگر کسی علم نے پیش کیا تو وہ علم فلسفہ ہے۔ مزید برآں، ماضی میں فلسفہ کی اسی طرح حکمرانی رہی، جس طرح آج سائنس اپنی تمام توانائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ نتیجتاً، آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسفہ محض بحث نہیں، بلکہ حق کی جستجو اور انسان و کائنات کے مقصدِ تخلیق پر غور کی راہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی فلسفہ نے اخلاق، انصاف، معاشرت اور علم کے دروازے کھولے۔ اس کے علاوہ، اسلامی فکر نے ہمیں سکھایا کہ سوال کرنا گمراہی نہیں بلکہ ہدایت کا آغاز ہے۔ حکمت انسان کو بہتر انسان اور بہتر مسلمان بناتی ہے۔ قرآن کریم کی سورہ البقرہ کی آیت 269 میں ارشادِ خداوندی ہے:
“جسے حکمت عطا کی گئی، اسے بے پناہ خیر دیا گیا”۔
یہ آیت فلسفے اور حکمت کی اسلامی بنیادوں کو واضح کرتی ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ فلسفہ یونان سے عرب دنیا میں داخل ہوا۔ مسلمانوں میں عظیم فلسفی پیدا ہوئے، جنہوں نے فلسفے کو اسلامائز کیا۔ مزید برآں، اس سلسلے میں رہنمائی کے لیے شہید باقر الصدر کی کتاب “فلسفتنا” سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ کتاب اسلامی فکری روایت میں فلسفے کی جامع تشریح پیش کرتی ہے۔