تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا عالمی ایام پر پیغام

مذہب انسانی وقار اور مساوات کا آفاقی پیغام ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی

مذہب انسانی وقار کی بلندی، فلاح اور باہمی مساوات کے آفاقی پیغام کا نام، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی

جدید دنیا میں نئی غلامی کے پیمانے نافذ، عام افراد کے بعد ریاستیں اور اب انسانی ذہن کو ڈیجیٹل انداز سے مفلوج کرکے اس کے شعور پر حملے شروع ہوچکے، علامہ سید ساجد علی نقوی کا بین الاقوامی ایام پر پیغام

اسلام آباد، 22 اگست 2026ء: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ مذہبی اعتقادات یا بنیادی عقائد نہیں بلکہ ان کی تشریحات اور تعبیرات مسائل پیدا کرتی ہیں۔ انتہاپسندی کی گنجائش کسی بھی معاشرے میں کسی بھی شکل میں نہیں دی جاسکتی۔ انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے مگر ہر دور میں ایک نئے انداز میں انسان کو غلام بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب فرد کی جگہ اس سے بھی سخت قوموں اور ریاستوں کی غلامی نے لے لی ہے، تو دوسری طرف انسانی ذہن کو ڈیجیٹل انداز سے مفلوج کیا جارہا ہے اور اس کے شعور پر حملہ کرکے اس سے سوچنے اور جینے کا حق تک چھینا جارہا ہے۔ دین الٰہی بہترین راستہ ہے جس نے نہ صرف غلامی کی مذمت اور اس کے خاتمے کا جواز فراہم کیا بلکہ انسانیت کی تا قیامت رہنمائی بھی فرمائی۔

ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یکے بعد دیگرے ”دہشت گردی سے متاثرہ افراد، مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین اور غلام تجارت کے خاتمے کا دن“ کے حوالے سے عالمی ایام پر اپنے پیغامات میں کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ مذہبی اعتقادات یا بنیادی عقائد ویسے نہیں ہوتے جس طرح ان کی تشریحات و تعبیرات کرکے اور عملی میدان میں اپنے انداز میں ان کے نفاذ کی کوشش کی جاتی ہے۔ بنیادی عقائد کی تشریح و توجیہ مختلف انداز میں ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ شدت اس حد تک ابھر آتی ہے کہ مخالف نظریہ رکھنے والا نشانہ بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی عمل جسے آج دنیا ”انتہاپسندی“ کا نام دیتی ہے، عملی صورت اختیار کرتا ہے اور اسی سے دہشت گردی جنم لیتی ہے، جس کی مہذب دنیا میں کوئی گنجائش نہیں۔ انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی مساوات اور بنیادی حقوق پر سب کے حق کے اہم ترین بیانیے پر ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ افسوس پاکستان میں اسی سوچ کے سبب فتوے دیے گئے، پھر ایک عرصہ تک تکفیر کا بازار گرم کیا گیا، جس سے تشدد نے جنم لیا اور سینکڑوں خاندان اور ہزاروں لوگ اس سے متاثر ہوئے۔

غلام تجارت کے خاتمے کے حوالے سے عالمی دن پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر دور میں انسان کو ایک نئے انداز میں غلامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فرد کی غلامی کی جگہ سخت قوموں اور ریاستوں کی غلامی نے لے لی ہے، جو پہلے درجے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ایک نئے ڈیجیٹل انداز میں انسانی ذہن کو مفلوج کرکے اس کے شعور پر حملے شروع ہوچکے ہیں۔ اس کے سوچنے، سمجھنے اور جینے تک کا حق خاموشی سے چھینا جارہا ہے۔ انسانی رویوں اور انسانی اقدار کو جب تک بحال نہیں کیا جائے گا، ان نئے چیلنجز سے آنے والی نسلوں کا تحفظ ممکن نہیں۔