تازه خبریں

آیت اللہ خامنہ ای کے ازواج مطہرات ، صحابہ کرام کے احترام پرفتوے کو اتحاد امت کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے، علامہ عارف واحدی

لاہور ( ) اسلامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے واضح کیا ہے کہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کی لعنت سے نجات کے لئے اتحاد امت کے قرآنی تصور کو اجاگر کرنا ضروری ہے، تمام مکاتب فکر اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے، مشترکات کو فروغ دیں تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔محرم الحرام کے حوالے سے تحمل، برداشت اور رواداری کے موضوع پرمنعقدہ نشست سے خطاب میں علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ہم امت واحدہ کے قرآنی تصور کو اجاگر کرنے کے لئے نہ صرف تیار ہیں بلکہ ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔ ملی یکجہتی کے پلیٹ فار م پر قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مرحوم مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد مرحوم ،پروفیسر ساجد میر، مولانا سمیع الحق او ر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر اتحاد و وحدت کے بانیوں کا کردار ادا کیا ہے۔اور یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ اپنے اپنے مسلک پر رہتے ہوئے اتحاد امت کی ایسی فضا کسی اوراسلامی ممالک میں قائم نہیں ہوسکی۔ علامہ عارف واحدی نے کہا کہ آج اسلام ا ور پاکستان کے دشمن بھارت کی طرف سے چیلنجز کی فضا میں مذہبی طبقے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ معاشرے میں محبت و اخوت،رواداری اور برداشت کی فضا پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے تمام مسلمہ مسالک میں پچانوے فی صد اشتراک اور پانچ فیصد فروعی نوعیت کے اختلافات ہیں، عقیدہ توحید،مقام رسالت،ختم نبوت اور عظمت قرآن پرہم سب کا اتفاق ہے ،ہم سب کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری ذات باری تعالیٰ نے خود لی ہے ، قرآن کریم آئین حیات بشرہے،ہم سب کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن حکیم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی قیامت پر ہمارا مشترکہ یقین ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلبیت اطہار،صحابہ کرام ،ازواج مطہرات کا احترام ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔ جبکہ محرم ہو یا اس کے بعدکے ایام نواسہ رسول امام حسین کی قربانی کی یادہر مسلمان اپنے انداز میں مناتا ہے۔ اور سب تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام کو کربلا سے نئی زندگی ملی ، پھرچند فقہی اور فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ ان دوریوں کا سبب نہیں بننا چاہیے ۔اسلامی تحریک کے رہنما نے علما ، واعظین اور دانشور طبقے کو ذمہ داریوں کاا حساس دلاتے ہوئے کہا کہ اتحاد و وحدت کی محافل کی خبر یںعام لوگوں تک پہنچانا انتہائی ضروری ہے تاکہ کم علم اور شرپسند عناصر اپنی شرارتوں کی وجہ سے مختلف مسالک کے درمیان بگاڑ پیدا نہ کر سکیں۔انہوں نے امت مسلمہ اور اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دو اہم دوست ممالک ایران اور سعودی عرب کو ٹھیک ٹھاک پیغام دینا ہو گا کہ اگر ان دونوں کے درمیان اختلاف کی کیفیت ایسے ہی برقرا رہی تو امت مسلمہ کمزور ہو گی اور اگر ان کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضا قائم ہو گی تو مسلمان مضبوط ہوں گے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے علماءکرام کے استفسارپر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کے احترام پر جو فتوی دیا ہے، اس کو بھی اتحاد امت کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے،جس میں انہوں نے ان شخصیات کی توہین کو حرام اور رسول کریم کی توہین قراردیا ہے۔ امید ہے محرم الحرام میں امن و امان کی فضا بہتر رہے گی اورہم سب ملکر ان حالات لو بہتر بنانے میںاپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔