ترک صدر طیب اردوگان آج صدر ممنون حسین کی دعوت پر دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔ اپنے دورے میں وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کرینگے، ترک صدر کی پاکستان میں کیا کیا مصروفیات ہونگی۔
ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک صدر طیب اردگان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔
جس کا مقصد ترکی میں ناکام فوجی بغاوت پر پاکستان کی جانب سے غیر متزلزل حمایت پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنا بھی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نواز حکومت کی جانب سے اس بغاوت کے بعد ترکی میں جمہوری حکومت سے اظہار یک جہتی کے لئے پارلیمان سے متفقہ قرارداد بھی پاس کرائی گئی۔
ترک صدر سترہ نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے ، غیر ملکی سربراہ کے خطاب کے موقع پر تحریک انصاف نے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے۔
ادھر ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترک صدر دو روزہ دورے میں صدر اور وزیراعظم پاکستان سے ملاقاتیں کریں گے ، حکومتی وزرا اور بزنس کمیونٹی پرمشتمل ایک وفد بھی پاکستا ن ان کے ہمرا ہ ہوگا۔
خطاب کے بعد ترک صدر کو ایوان صدر کی جانب سے سرکاری ضیافت بھی دی جا ئے گی۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق طیب اردوان لاہور کا بھی دورہ کریں گے۔ جہاں وزیراعظم نواز شریف شاہی قلعے میں طیب اردوان کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔
ترک صدر کے ساتھ مسئلہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سمیت خطے میں امن امان کی صورتحال پر بھی مفصل بات چیت کی جائے گی۔