• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے علامہ عارف حسین واحدی کی کمشنر،آر پی او اور دیگر افسران بالا سے ملاقاتیں

جعفریہ پریس – شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے ایک وفد کے ھمراہ جمعہ اورہفتہ  کی درمیانی رات گیارہ بجےکمشنر،آر پی او اور دیگر افسران بالا سے مل کر قائد محترم علامہ ساجد نقوی کا پیغام پہنچایا اور انتظامیہ سے گفتگو کی کہ اتنا حساس پوائنٹ راجہ بازار جہاں سے ھمیشہ عاشورہ کے جلوس کے بارے میں شرارت ھوتی ھے اس حوالے سے سوال ھے کہ کیوں لاوڈ سپیکر کے آزادانہ استعمال کی اجازت دی گئی؟؟جلوس میں اتنی بڑی تعداد میں عزادار موجود ،اس مسجد کے ساتھ سے پر امن انداز میں گذر رھے تھے تو کیوں خطبے میں شرپسندانہ تقریر کی گئی؟؟ اسے کنٹرول کیوں نہ کیا گیا،؟؟واضح نظر آ رھا ھے کہ اوپر سے پتھراو کیا جا رھا ھے انتظامیہ کیوں خاموش تماشائی بنی رھی؟؟اتنے حساس مقام پر اتنے ناقص انتظامات کیوں؟؟اس پر آر پی او صاحب نے کہا کہ ھم مانتے ھیں کہ ھماری انتظامیہ سے کچھ کمزوریاں رہ گیئیں،اب آپ لوگ تعاون کریں کہ شھر میں امن قائم ھو ،علامہ عارف حسین واحدی نے کہا ھم مکمل تعاون کریں گے مگر لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے،اس واقعہ کے اصل ذمہ داروں کو قانون کے شکنجے میں کسا جائے،اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کرا کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،امام بارگاھوں،مساجد،مدارس اور عبادت گاھوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے،کمشنر نے کہا آپ کا کیا مشورہ ھے کہ کرفیو لگا دیں ،ھم نے کہا امن قائم رکھنا ضروری ھے اس کے لیے جو کچھ کرنا پڑے اقدام کریں،انھوں نے کہا کرفیو بھی لگاتے ھیں اور آپ کے مطالبے کے مطابق جوڈیشل انکوائری کے آرڈر بھی کرتے ھیں۔اور ایک گھنٹے کے اندر کرفیو لگ گیا اور جوڈیشل انکوائری کا بھی اعلان کر دیا گیا۔۔