اسلامی نظام کا نفاذ مشترکہ سفارشات کی روشنی میں کیا جائے، علامہ ساجد نقوی
 شیعہ علما کونسل لاہو رکی ملی افطاری میں علامہ سبطین سبزواری، افضل حیدری، وزیر مذہبی امور زعیم قادری، بیرسٹر عامر حسن کی شرکت
لاہور(    ) قائد ملت جعفریہ پاکستانآیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے  کہا ہے کہ شیعہ سنی میں فقہی و اجتہادی اختلاف کی بنیاد پر مخالفانہ نعرے اورفتوے نہیں لگائے جاسکتے۔ ملک میں اتحاد کی فضا موجود ہے۔ آئین قرآ ن وسنت کے خلاف قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ جن پر تمام مکاتب فکر کا اتفاق موجود ہے۔ پانامہ لیکس کا آئین وقانون کے مطابق فیصلہ ہر فریق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ عسکری اتحاد کے تناظر میں پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ فتنوں کو اندر نہ آنے دے اور کشیدگی کو ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ علماکونسل لاہور کی ملی افطاری کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری،علامہ محمد افضل حیدری، وزیر مذہبی امور پنجاب سید زعیم حسین قادری، پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن،جمعیت علما پاکستان کے رہنما مولانا ارشد گردیزی، جاوید اکبر ساقی، شہباز نقوی، ملک شوکت علی اعوان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ دینی جماعتیں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر موجود ہیں، سیاسی اتحاد کے لئے رابطے جارہی ہیں۔جے یو آئی اور جماعت اسلامی میں بھی اختلافات ختم کرانے کا طریقہ کار نکل آئے گا۔سیاسی اتحاد کے لئے اسلامی تحریک کی ترجیح دینی جماعتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں شیعہ سنی فساد موجود نہیں، کچھ لوگوں کو اس مقصد کے لئے خریدا گیا۔ کسی مسلک کی توہین تشیع کا شعار نہیں۔ امت مسلمہ کو مشترکات پر اکٹھے کرنے کے لئے بانی کی حیثیت سے کردار ادا کیا ہے، اتحاد بین المسلمین کا مشن جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہونا چاہیے، جس کے لئے مشترکہ سفارشات تیار ہوچکی ہیں۔ اور تمام مکاتب فکر کا اس پر اتفاق ہے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here