مجالس عزا کے خلاف ایف آئی آرز کوختم کیا جائے،شہری آزادیوں کو سلب کرنے کی کوششوں پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، شیعہ علما کونسل
فورتھ شیڈول میں صرف دہشت گردوں کورکھا جائے، علماکواس سے نکالا جائے، معصوم لوگوں کو ہراساں کرنے والے شتر بے مہار اداروںکو نکیل ڈالی جائے، قراردادیں
لاہور ( ) شیعہ علما کونسل نے اسلامی دنیا میں جاری تنازعات اور بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ مفاہمت ہی مسائل کا حل ہے۔یمن، بحرین ہو یا شام عوام کو ان کا حق حکمرانی ملنا چاہیے۔بیرونی ممالک کی مداخلت کاخاتمہ ضروری ہے۔او آئی سی کو غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیئے۔البتہ انبیا علیہم السلا م ،اہل بیت علیہم السلا م اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مزارات مقدسہ کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گرد تکفیری گروہ سے کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے۔ایک اور قرارداد میں گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دے کر پاکستا ن کاپانچوا ںصوبہ قراردینے اورخطے کے محب وطن عوام کی سینیٹ ، قومی اسمبلی اور دیگر اداروں میں نمائندگی کو یقینی بنانے ، نیز CPEC (اقتصادی راہداری منصوبے ) میں گلگت ڈویژن اور بلتستان ڈویژن میں دو علیحدہ علیحدہ اقتصادی زون بنانے کے مطالبات بھی کئے گئے۔ پنجاب میں حالیہ بلدیاتی انتخابی عمل کی تکمیل کو خوش آئند قرا ر دیتے ہوئے انتخابی عمل اور نظام کی تشکیل میں بلاوجہ تاخیری حربوں کی مذمت کی گئی اور مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔شیعہ علما کونسل نے کرپشن کو معاشرے کے لئے ناسورقراردیتے ہوئے زوردیا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لئے آئین اور قانون کے مطابق اقدامات اور احتساب کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔ اجتماع میں CPEC (اقتصادی راہداری منصوبے ) کو ملکی ترقی کے لئے سنگ میل قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو بھی اسی جذبے سے بیرونی قوتوں کے دباو کو مسترد کرتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی کی زیر صدارت وزارت نقوی مرحوم کی یاد میں قصر زینب میں منعقدہ تعزیتی اجتماع کے موقع پر منظور کردہ قراردادوں کے دوسرے حصے میں پنجاب میں مجالس عزا کے خلاف درج ایف آئی آرز کوختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تبلیغی مجالس عزا بنیادی شہری حقوق کے زمرے میں آتی ہیں ۔ شیعہ عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کہ پاکستان میں تشیع کے حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جنہیں کسی صورت قبول اور برداشت نہیں کیا جائے گا۔اجتماع نے مطالبہ کیا کہ فورتھ شیڈول میں صرف دہشت گردوں اور شرپسندوں کورکھا جائے، پرامن علما اور عوام کواس ظالمانہ شیڈول سے نکالا جائے۔ ایک اور قرارداد میں تحریک جعفریہ پاکستان کے خلاف ریفرنس کے بوگس ہونے پر سپریم کورٹ کے 18۔ نومبر 2014ءکے فیصلے کی روشنی میںٹی جے پی کی بحالی اور لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنبچ کی طرف سے قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کی درخواست پر 15دسمبر 2016ءکو وزارت داخلہ کو ایک ماہ کے اندر ٹی جے پی کی بحالی کے آرڈر شیٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ناانصافی پر مبنی بیلنس پالیسی کو ختم کرکے پرامن جماعت کو بحال کیا جائے۔ اجتماع میں اس بات پر اصرارکیا گیا کہ ہے تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس کا فرقہ واریت کے خاتمے میں بنیاد ی کردار رہا ہے اور اس میں عسکری ونگ کا تصور تک ممکن نہیں ہے۔جبکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی،پاکستان میں اتحادامت کے بانیوں میں سے ہیں۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابی عمل کی تکمیل کو خوش آئند قراردیتے ہوئے مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔شرکا نے کرپشن کومعاشرے کے لئے ناسورقراردیتے ہوئے زوردیا کہ اس کے خاتمے کے لئے آئین اور قانون کے مطابق اقدامات اور احتساب کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔