• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

کوئٹہ زائرین کی بس پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عملی طور پر پاکستان میں دہشت گرد حکومت کر رہے ہیں اورحکومتی کردارایک کٹھ پتلی سے بڑھ کر کچھ نہیں، مرکزی صدر جے ایس او پاکستان

جعفریہ پریس-( لاہور) جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر ساجد علی ثمر نے کوئٹہ زائرین کی بس پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔یہ کون سا اسلام ہے کہ جس کو نافذ کرنے کی باتیں طالبان کر رہے ہیں۔اسی بس میں عورتیں اور بچے بھی سوار تھے ۔ رسول اکرمؐ جو اسلامی تعلیمات ہمیں دیں اس میں تو دیار کفر میں حالت جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کو گزند پہنچانے سے منع کیا گیا جبکہ طالبان جو اسلام نافذ کرنا چاہ رہے ہیں اس میں کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام نے ووٹ دے کر اگرچہ چند دیکھے بھالے چہروں کو اقتدار میں بھیجا تھا لیکن ملکی حالت جس ڈگر پر چل رہے ہیں اس سے یہ ہی معلوم ہو رہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت عملی طور پر دہشت گرد حکومت کر رہے ہیں اور وہ دیکھے بھالے چہرے اور حکومتی ارکان ان کے سامنے ایک کٹھ پتلی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتی ارکان مذمت سے بڑھ کر کچھ عملی اقدام بھی کریں ۔پاکستان کے حالات خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پھانسی کا قانون معطل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے حوصلے بہت زیادہ بلند ہو چکے ہیں۔اگر اسلام پر عمل درآمد کیا جائے اور دہشت گردوں کو سر عام پھانسی دے دی جائے تو ملکی صورت حال کو امن پر لایا جا سکتا ہے لیکن شاید حکومت ایسا چاہتی ہی نہیں۔