تازه خبریں

گلگت بلتستان کے عوام نے سامراج کو بھگا کر 36 ہزار مربع میل علاقہ کو آزاد کرآیا ورنہ انڈیا کا بارڈر بشام میں ہوتا مولانا سراج الحق

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا سراج الحق نےکہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہندو برہمن سامراج کو بھگا کر 36 ہزار مربع میل علاقہ کو آزاد کرآیا ورنہ انڈیا کا بارڈر بشام میں ہوتا یہ گلگت بلتستان کے بہادر عوام کا کارنامہ اور احسان ہے اور شہدا کے قربانیوں کا ثمر ہے اب حکومت پاکستان کا فرض ہے ک گلگت بلتستان کے عوام کو اسلام آباد سے زیادہ حقوق میسر ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے رہنماوں شیخ مرزا علی اور سابق صوبائی وزیر دیدار علی سے گفتگو کرتے ہوئے کی انہوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیوں کا معترف ہیں اور دل سے عزت کرتے ہیں   گلگت بلتستان دیگر علاقوں سے زیادہ پسماندہ ہے علاقے میں غربت زیادہ ہے سہولیات نہں ہونے کے برابر ہے امیر جماعت اسلامی نے یقین دلایا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لئے آواز آٹھواں گا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے معاملہ پر اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ اکے تعلق کے حوالے سے وزارت خارجہ سے بریفنگ لوں گا کیوں کہ اس حوالے سے کچھ معلومات ہیں مگر کچھ معلومات نہیں اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ مرزا علی نے کہاکہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور سی پیک کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام تحفظات رکھتے ہیں اور یہ مسئلہ گزشتہ ستر سالوں سے حل طلب ہیں انہوں نے کہا کہ چینی سفارتخانے کی جانب سے سی پیک کے منصوبوں کی جو لسٹ جاری کی گئی ہے اس میں گلگت بلتستان کا کویہ منصوبہ نہیں یہ وہاں کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے ہم سی پیک کے نگہبان ہیں لہذا گلگت بلتستان کو حصہ دیا جائے سابق صوبائی وزیر دیدار علی نے گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت اور علاقے کی اہمیت کے حوالے سے سراج الحق کا آگاہ کیا انہوں نےکہا کہ  افسوس کا مقام ہے کہ گکگت بلتستان کے بارے میں سیاسی قیادت اتنی باخبر نہیں بلکہ اس خطہ کے حوالے سے فوج با خبر ہے  بلکہ جنیجو صاحب جب ویر اعظم تھے اس وقت گلگت بکتستان کو سرحد کا حصہ کہتے رہے انہوں نے کہا کہ  تاریخی اعتبار سے گلگت بلتستان کبھی کشمیر کا حصہ نہیں رہا 1846 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے گلگت بلتستان پر زبر دستی قبضہ کیا اور خطہ پر حکومت کی جبکہ یکم نومبر 1947 میں گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج کو مار بھگایا اور آزادی حاصل کر کے اسلام کے نام پر پاکستان سے الحاق کیا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ابھی تک آئینی حقوق نہ دے کر وفاق نے گلگت بلتستان کے ساتھ بھی زیادتی کی اور یہ خود وفاق کے ساتھ بھی زیادتی کی ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک حساس ترین خطہ ہے اور وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اس خطہ کی حیثیت اور اہمیت  عالمی سطح پر زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کو متنازعہ خطہ کہتا ہے جبکہ انڈیا  گلگت بلتستان کو اٹوٹ انگ کہتا ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے گلگت بلتستان کے بارے میں فیصلہ یہ آتا ہے کہ گلگت بلتستان ہمارا حصہ نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا استحکام اسی میں ہے کہ گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنا کر سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے انہوں نے کہا کہ جو لوگ گلگت بلتستان کو اپنا حصہ کہتے نہیں تھکتے وہ اس وقت کہاں تھے جب بھٹو کے دور میں گلگت بلتستان کا 5 ہزار مربع میل کا علاقہ دیا گیا جب چھور بٹ کے سرحدی علاقہ پر بھارت نے قبضہ کیا تو اس وقت کہاں تھے انہوں نے کہا ک گلگت بلتستان کے عوام نے گزشتہ 70 سال سے کشمیر کے لئے قربانی دی اور دیتے آرہے ہیں انہوں نےکہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ کبھی علحدگی پسند نہیں رہے ہمیشہ پاکستان کے استحکام کی بات کی ہے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمارا پرانہ تعلق ہے وہ گلگت بلتستان کے حقوق  کے لئے اپنا کر دار ادا کرے