شہدائے کربلا کا چہلم انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
محسن انسانیت سید الشہداء کی ذات تمام اختلافات اور طبقات کی تقسیم سے بالاتر تمام انسانوں کیلئے نمونہ عمل ہے، قائد ملت جعفریہ
فرزند رسولۖ حضرت امام حسین کی فکر انگیز تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرکے سیسہ پلائی دیوار بن کر سامراجی قوتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں
اسلام آباد/ راولپنڈی 14 اگست 2025 ء ( جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اربعین حسینی (چہلم شہدائے کربلا) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ محسن انسانیت’ نواسہ پیغمبر اکرمۖ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی یاد میں شہدائے کربلا کے چہلم کے جلوس’ مجالس اور دیگر مراسم عزا کو انتہائی بھر پور طریقے سے عقیدت و احترام سے منایا جائے او ر ان پروگراموں میں بھرپور شرکت کی جائے کیونکہ آزادی کی جدوجہد ہو’ ظلم و ناانصافی کے خلاف قیام ہو ، ظالمانہ نظام کے خلاف مزاحمت ہو’ نیکی پھیلانا اور برائیوں کو مٹانا ہو’ الغرض یہ ساری کوششیںایسی ہیں جن میں سید الشہداء کی ذات اور کردار’ ہر زمانے کے انسان کے لئے خواہ وہ کتنا ہی انسانی ارتقاء کی منازل طے کرچکا ہو سرچشمہ ہدایت و رہنمائی ہے۔ صرف اسی صورت میں امت مسلمہ نواسہ رسول اکرمۖ سے اپنی عقیدت ووابستگی کا اظہار صحیح طور پر کرسکتی ہے جب ان کے پاکیزہ ہدف و مقصد سے آگاہی و آشنائی کے ساتھ ساتھ اپنے اندر فکر و عمل کی بنیادوں کو بھی مضبوط بنائے۔ تاکہ حقیقی معنوں میںزندگی گذارنے اور اخروی نجات کا سامان فراہم ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ امام عالی مقام کی ذات اور آپ کے اہداف آفاقی ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف مکاتب فکر کے نہ صرف کروڑوں مسلمان بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی انتہائی عقیدت سے امام عالی مقام کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں۔ اگرچہ اس وقت انسانیت مختلف گروہوں میں بٹ چکی ہے لیکن محسن انسانیت سید الشہداء کی ذات ان تمام اختلافات اور طبقات کی تقسیم سے بالاتر تمام انسانوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔ اس لئے گذشتہ چودہ صدیوں سے انسانیت آپ کی ذات سے وابستہ رہنے کو اپنے لئے شرف اور رہنمائی کا باعث قرار دے رہی ہے اور بلا تفریق مذہب و مسلک اور خطہ وملک آپ کی سیرت سے استفادہ کررہی ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ کربلا کے بعد یہ اصول طے ہوگیا کہ رہتی دنیا تک آزادی کی جدوجہد ہو یا ظلم و ناانصافی کے خلاف قیام ، آمریت کے خلاف مزاحمت ہو یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی انجام دہی۔ ہر مرحلے میں سیدالشہداء کی ذات اور کردار کو رہنماء تسلیم کیا جائے گا اور اپنی جدوجہد کی بنیاد حسین کی سیرت اور اصولوں کو مدنظر رکھ کر رکھی جائے گی۔ قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق کی نظر اندازی’ امن و امان کی ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر حکمرانوں اور عوام کی ذمہ داریوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے اس صورت حال میں کربلا کے معرکہ حق و باطل کے روح رواں’ فرزند رسولۖ حضرت امام حسین علیہ السلام کی فکر انگیز تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرکے سیسہ پلائی دیوار بن کر سامراجی قوتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ و مامون کیا جاسکتا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو اتحاد و اخوت کا مظاہرہ کرکے حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام و قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکے اور کربلا کا آفاقی پیغام پوری دنیا میں روشنی پھیلا سکے۔