تازه خبریں

غزہ پیس بورڈ کے خلاف علامہ محمد رمضان توقیر کا بیان

غزہ پیس بورڈ سامراجی ایجنڈا ہے، اسلامی ممالک دستبردار ہوں | علامہ رمضان توقیر

**غزہ پیس بورڈ میں شمولیت سامراجی ایجنڈا ہے، اسلامی ممالک اس سے فوری دستبردار ہوں

علامہ محمد رمضان توقیر**

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے غزہ پیس بورڈ میں پاکستان سمیت بعض اسلامی ممالک کی شمولیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ایک استعماری اور سامراجی منصوبہ ہے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن نہیں بلکہ اسرائیل کے مفادات کا تحفظ اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم کو تقویت دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد غزہ پیس بورڈ دراصل فلسطینی عوام کے قتلِ عام کی کھلی حمایت ہے اور اسلامی دنیا کو اس فریب پر مبنی منصوبے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ “شیطانِ بزرگ” کی قیادت میں بنائے گئے اس ایجنڈے کا حصہ بننے کے بجائے اپنی خودمختاری اور عوامی جذبات کا احترام کریں۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ اسلامی ممالک کی عوام بلا تفریق غزہ پیس بورڈ کو مسترد کر چکی ہے اور اس پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اگر اسلامی ممالک واقعی قیامِ امن کے خواہاں ہیں تو انہیں امریکہ کی پیروی کے بجائے ایران، لبنان، شام اور فلسطین سمیت پورے خطے میں منصفانہ ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے پاکستانی حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کریں اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، ترکیہ اور ایران جیسے ممالک کی طرح جرات مندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اس مذموم سازش سے خود کو الگ کریں۔

علامہ رمضان توقیر نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی گرین پاسپورٹ پر آج بھی واضح درج ہے کہ یہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قابلِ استعمال ہے سوائے اسرائیل کے۔ پاکستان کی کسی بھی صورت میں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف استعمال بانیٔ پاکستان کے نظریے سے انحراف ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیور عوام فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتی ہے اور ہرگز یہ قبول نہیں کرے گی کہ پاکستان کسی ایسے منصوبے کا حصہ بنے جو مظلوم مسلمانوں کے خلاف ہو۔