تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی سائنس برائے امن و ترقی کے عالمی یوم پر خطاب کر رہے ہیں

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا سائنس برائے امن و ترقی کے عالمی یوم پر پیغام

راولپنڈی / اسلام آباد، 10 نومبر 2025ء: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ سائنس کی مثال نشتر کی طرح ہے؛ اگر یہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو تو انسانیت کے لیے سلامتی اور فلاح لاتی ہے، اور اگر ڈاکو کے ہاتھ میں ہو تو بربادی پیدا کرتی ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا:

“سائنس کی مثال اس نشتر جیسی ہے، اگر ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو تو خیر ہی خیر اور اگر ڈاکو کے ہاتھ میں دیا جائے تو شر ہی شر پھیلے گا۔ آج دنیا کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ افسوس جس علم کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال میں لایا جانا چاہیے تھا، اسے فلاح انسانیت کی بجائے قبیح فعل (انسانیت کی تباہی) کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ موجودہ دنیا میں سامراج اور اس کا چیلہ صیہونی قاتل ہے، جسے کھلا دشمن قرار دیا گیا ہے جن سے کبھی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔”

انہوں نے یہ خیالات سائنس برائے امن و ترقی کے عالمی یوم پر اپنے پیغام میں بیان کیے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا:

“اس میں کوئی شک نہیں کہ علم سائنس نے انسان کو مزید آگے بڑھنے، کائنات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور انسانی زندگی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اس کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے، مگر دوسری طرف اسی سائنسی علم کو سامراجی قوتوں نے انسانیت کی بربادی کے لیے بھی بے دریغ استعمال کیا۔ سب سے بڑی اور بدترین مثال ماضی میں ہیروشیما اور ناگاساکی تھے، تو آج غزہ اس کی تجربہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ سائنس کی مثال اس نشتر جیسی ہے، اگر ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو تو امن و سلامتی اور ڈاکو کے ہاتھ میں ہو تو ظلم و بربادی ہوگی۔”

قائد محترم نے افسوس کا اظہار کیا کہ:

“آج دنیا سائنس برائے امن و ترقی ایسے وقت میں منا رہی ہے جب غزہ پر بموں کی سیاہ برسات گزری، انسانیت سسک سسک کر مرتی رہی اور اب اس سامراج کی آشیر باد سے امداد تک مظلوموں تک نہیں پہنچ پا رہی۔ بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے اب بچے کچھے انسانوں کے بھی درپے ہیں، مگر افسوس نام نہاد مسلط کردہ امن معاہدے پر بہت ڈھول پیٹے گئے، مگر عملاً ظلم کی سیاہ رات آج بھی طاری ہے۔”