ٹنڈو آدم فروری2017
سی پیک منصوبہ،پانامہ لیکس،فوجی عدالتوں میں توسیع،شہری حقوق اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی اہم پریس کانفرنس
jafariapress.com
صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں بہت اچھا ماحول پیدا ہوا تھا آپریشن ضرب عضب کے بعد مگر مسلسل سانحات ہورہے ہیں اس کامکمل سدباب ہونا چاہئے لاہور میں جو واقعہ ہوا وہ انتہائی دلخراش ہے صحافی نے چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے سوال کیا تو علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان میں تمام صوبوں اور یونٹس کو اس سے مستفید کرنا چاہئے اس کی کامیابی اس صورت ممکن ہے جب اس منصوبے کو کرپشن سے پاک رکھا جائے ایسے منصوبے شفافیت کے نا ہونے کی وجہ سے ناکام ہوجاتے ہیں صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ حکومت اس طرف متوجہ ہو کہ محرم الحرام اورشہری آزادیوں کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالے مجالس کی روک تھا اپنے اختیارات سے تجاوز ہے مجالس عزا تبلیغی اجتماعات سب عوام کا بنیادی حق ہے شہری آزادیوں کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں یہ امتیاز ہمیں حاصل ہے کہ ہم عوام کو اشتعال میں نہ لائے ہیں نہ لانے دیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے اقدامات سے حکومت گریز کرے پانامہ لیکس کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ ہفتہ اہم ہے عدالت جس نتیجے پر پہنچے گی سب کو اس فیصلے کو قبول کرنا چاہئے ورنہ کوئی اور جگہ نہیں اسی میں پاکستان کی بھلائی ہے کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے فرمایا کہ کشمیر میں قتل عام بھارت کی کھلی دہشت گردی ہے اور اس قتل عام سے نظریں ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی جاتی ہے اس کومنہ توڑ جواب ملنا چاہئے بھارت کو روکنے کے لئے حکومت جو اقدامات کرسکتی ہے وہ کرنےچاہئیں تاکہ آزادی کشمیر کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے محرم الحرام کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ خوف کی فضا حکومت کی جانب سے ہے محرم پہلے بھی ہوتاتھا آئندہ بھی ہوتا رہیگا یہ فضا پیدا نہیں ہونی چاہئے ہمارے ہاں کسی ملسک کی توہین جرم ہے حرام ہے ہم اتحاد کے بانی ہیں حافظ سعید کی نظر بندی کے حوالے سے سوال کے جواب میں قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ اس سلسلے میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان اقدامات کررہی ہے مردم شمای کے سلسلے میں درست انتظامات ہونے چاہئیں تاکہ عوام اس کو قبول کریں فوجی عدالتوں کے سلسلے میں صحافیوں کو جواب دیا کہ ایک شخصیت نے کہا تھا میں نام نہیں لیتا کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدمات ہونے چاہئیں میں اس کو رد کرتا ہوں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی قانون سازی قابل قبول نہیں ہے آپ غیر معمولی حالات کاخاتمہ کریں تاکہ ایسی قانون سازی کی ضرورت نہ پڑے آج تک کوئی ٹھوس قدام نہیں ہوا ہے قانون موجود ہے آئیں موجود ہے آپ غیر معمولی حالات کے خاتمے کے لئے بھرپور اقدامات کرسکتے ہیں کیوں نہیں کرسکتے ؟ یہ جو دہشتگردی کی عدالتیں ہیں میں اس کے حق میں بھی نہیں تھا ہمارا کہنا تھا کہ جو نظام انصاف موجود ہے اس کی اصلاح کرو جو خامیاں موجود ہیں اس کو دور کرکے اس سے فائدہ اٹھاؤ اضافی اقدامات سے فائدہ نہیں ہوگا اتنی بڑی ریاست فوج پولیس ادارے یہ سب غیر معمولی حالات کو ختم کریں تاکہ ایسی صورت حال ہی پیش نہ آئے ہم آئندہ آنے والے الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے ہمارے رابطے جاری ہیں