سماعت مسٹر جسٹس عاطر محمود نے کی ، درخواست دہندہ کی جانب سے سید ذوالفقار عباس نقوی ایڈووکیٹ اور سیدسکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ پیش ہوئے
عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کے نمائندے ڈپٹی سیکرٹری لاء سے استفسار کے بعدفیصلہ سناتے ہوئے رٹ پٹیشن نمٹا دی
راولپنڈی /اسلام آباد 16دسمبر 2016ء ( جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے تحریک جعفریہ پاکستان کی بحالی کیلئے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ ،راولپنڈی میں دائر رٹ پٹیشن نمبر2548/16کی مسٹر جسٹس عاطر محمود نے سماعت کی معزز عدالت کے گزشتہ آرڈر پر وزارت داخلہ کی جانب سے ڈپٹی سیکرٹری لاء عاطف عزیز سرکاری وکیل خالد محمود کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ تحریک کی جانب سے سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اس موقع پر درخواست دہندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی بھی موجود تھے۔درخواست دہندہ کے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزارت داخلہ نے تحریک پر پابندی کے غیر آئینی ،غیر قانونی اور بے بنیاد نوٹیفکیشن کے ذریعے جنوری2002 سے تاہنوز ہمارے آئینی ،بنیادی اور شہری حقوق سلب کیے ہوئے ہیں ۔وفاقی حکومت کی جانب سے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک جعفریہ پاکستان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیاجسے 18نومبر2014ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل بنچ نے سماعت کرتے ہوئے حکومتی ریفرنس کو ’’لا حاصل ،بے ثمر اور زائد المعیاد قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ۔اُس کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان کی بحالی کے لئے وزارت داخلہ کو متعدد درخواستیں اور لیگل نوٹسز ارسال کیے لیکن کوئی جواب نہ دیا گیا۔جس کے بعد عدالت میں آئے ہیں معزز عدالت کے تین بار حکم دینے کے باوجود وزارت داخلہ کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا اس پر عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کے نمائندے ڈپٹی سیکرٹری لاء سے استفسار کرنے کے بعد حکم دیتے ہوئے کہ ’’ تحریک جعفریہ پاکستان از سر نو درخواست وزارت داخلہ کو دے گی جس پر وزارت داخلہ درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے 30دن کے اندر مناسب فیصلہ کرنے کی پابند ہو گی‘‘ رٹ پٹیشن نمٹا دی ۔تحریک جعفریہ پاکستان کے وکیل اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے لیگل ایڈوائزر سید سکندر عبا س گیلانی ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم عدالتی حکم سے مطمئن ہیں اور یہ انتہائی مناسب فیصلہ ہے ۔ وزارت داخلہ کے پاس تحریک جعفریہ کو بحال کرنے کے علاوہ کوئی بھی معقول آئینی و قانونی جواز نہیں ہے اس لئے وزارت داخلہ سے توقع رکھتے ہیں کہ آئین و قانون کی عملداری کو قائم کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کی داعی، ملک و قوم کی سلامتی اور استحکام کیلئے عملی طور پر کوشاں سیاسی، مذہبی اورعوامی نمائندہ جماعت تحریک جعفریہ پاکستان کو بحال کر کے انصاف کی اعلیٰ روایت کوقائم کرے گی۔
عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کے نمائندے ڈپٹی سیکرٹری لاء سے استفسار کے بعدفیصلہ سناتے ہوئے رٹ پٹیشن نمٹا دی
راولپنڈی /اسلام آباد 16دسمبر 2016ء ( جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے تحریک جعفریہ پاکستان کی بحالی کیلئے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ ،راولپنڈی میں دائر رٹ پٹیشن نمبر2548/16کی مسٹر جسٹس عاطر محمود نے سماعت کی معزز عدالت کے گزشتہ آرڈر پر وزارت داخلہ کی جانب سے ڈپٹی سیکرٹری لاء عاطف عزیز سرکاری وکیل خالد محمود کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ تحریک کی جانب سے سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اس موقع پر درخواست دہندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی بھی موجود تھے۔درخواست دہندہ کے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزارت داخلہ نے تحریک پر پابندی کے غیر آئینی ،غیر قانونی اور بے بنیاد نوٹیفکیشن کے ذریعے جنوری2002 سے تاہنوز ہمارے آئینی ،بنیادی اور شہری حقوق سلب کیے ہوئے ہیں ۔وفاقی حکومت کی جانب سے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک جعفریہ پاکستان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیاجسے 18نومبر2014ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فل بنچ نے سماعت کرتے ہوئے حکومتی ریفرنس کو ’’لا حاصل ،بے ثمر اور زائد المعیاد قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ۔اُس کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان کی بحالی کے لئے وزارت داخلہ کو متعدد درخواستیں اور لیگل نوٹسز ارسال کیے لیکن کوئی جواب نہ دیا گیا۔جس کے بعد عدالت میں آئے ہیں معزز عدالت کے تین بار حکم دینے کے باوجود وزارت داخلہ کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا اس پر عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ کے نمائندے ڈپٹی سیکرٹری لاء سے استفسار کرنے کے بعد حکم دیتے ہوئے کہ ’’ تحریک جعفریہ پاکستان از سر نو درخواست وزارت داخلہ کو دے گی جس پر وزارت داخلہ درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے 30دن کے اندر مناسب فیصلہ کرنے کی پابند ہو گی‘‘ رٹ پٹیشن نمٹا دی ۔تحریک جعفریہ پاکستان کے وکیل اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے لیگل ایڈوائزر سید سکندر عبا س گیلانی ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم عدالتی حکم سے مطمئن ہیں اور یہ انتہائی مناسب فیصلہ ہے ۔ وزارت داخلہ کے پاس تحریک جعفریہ کو بحال کرنے کے علاوہ کوئی بھی معقول آئینی و قانونی جواز نہیں ہے اس لئے وزارت داخلہ سے توقع رکھتے ہیں کہ آئین و قانون کی عملداری کو قائم کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کی داعی، ملک و قوم کی سلامتی اور استحکام کیلئے عملی طور پر کوشاں سیاسی، مذہبی اورعوامی نمائندہ جماعت تحریک جعفریہ پاکستان کو بحال کر کے انصاف کی اعلیٰ روایت کوقائم کرے گی۔