جامعۃ المنتظر کے اجتماع میں قائد ملت علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطاب کیا۔ منتظمین لائقِ تحسین ہیں، جنہوں نے ایک شاندار علمی پروگرام ترتیب دیا۔ دینی مدارس کی اہمیت اپنی جگہ ہے، جبکہ اس دور میں دینی اقدار کو کمزور کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔
دینی مدارس کا قیام اور دین کو اصلی حالت میں لوگوں تک پہنچانا نہایت ضروری ہے۔ فطرتِ انسانی کے مطابق جو زندگی کا طریقہ دین نے سکھایا، اسے سیکھنا، اس پر عمل کرنا اور اس کی تبلیغ کرنا ضروری ہے، اور اسی کی پشت پناہی دینی مدارس کر سکتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ دینی اقدار کے خلاف مہم ہے، اور اس کے لیے حفاظت کا انتظام ضروری ہے۔ دینی مدارس کا قیام اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسلامی تہذیب کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، اور جدید وسائل استعمال ہو رہے ہیں۔
اصلاح کی ضرورت ہے، اور یہ وہی اصلاح ہے جو انبیاء کا شیوہ ہے۔ یہ وہی اصلاح ہے جس کے لیے سیدالشہداء نے کہا: “میرا قیام اصلاحِ امت ہے”۔
تشیع کے حقوق بھی اہم ہیں۔ سازش اور منصوبہ بندی کے تحت ان کے خلاف کوششیں ہو رہی ہیں، جبکہ دستور اور آئین میں مذہب کے اظہار، عمل اور تبلیغ کی ضمانت موجود ہے۔ تشیع کا اظہار، اس پر عمل، اور تبلیغ بنیادی حق ہے، اور اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
اقدامات جاری ہیں۔ عوام کو ان امور کو سمجھنا چاہیے۔ تشیع کے تحرک اور فعالیت کو روکنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، مگر چونکہ یہ فطری حق ہے، اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
تشیع کو دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری بنانے کی کوششیں ختم ہو چکی ہیں۔ پہلی ربیع الاول کی کال، قانون سازی کی کوششیں اور آئینی تحفظات سب موجود ہیں۔
عزاداری کو محدود کرنے کی منصوبہ بندی کے خلاف تیار رہیں۔ گروہوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے، اور سرکاری اہلکاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
قائد ملت علامہ سید ساجد علی نقوی نے مراجع اور عوام کو آگاہ کیا کہ قربانی دینے اور تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ برصغیر میں مختلف دینی جماعتوں کو ایک جماعت میں یکجا کرنا بھی ایک منفرد کارنامہ ہے۔ ہم کسی محاذ آرائی کے قائل نہیں، مگر اگر مجبور کیا گیا تو غلطی ہماری نہیں ہوگی۔